شہد کی مکھیاں قدرت کے چند بہترین ریاضی دانوں میں سے ایک ہیں۔
یہ شہد کی مکھیاں نہ صرف زاویوں کی پہچان کر سکتی ہیں۔۔۔
بلکہ اپنے چھتوں کو جیومیٹری کے اعتبار سے باکفایت طرز پر بناتی ہیں۔
انکے کے چھتے چھوٹی چھوٹی مسدس شکلوں کا مجموعہ ہوتے ہیں۔
ایک شہد کی مکھی آٹھ اونس شہد کو محفوظ بنانے کیلیے ایک اونس موم کا استعمال کرتی ہے۔
موم کی کمی کی وجہ سے شہد کی مکھی مسدس خانے بناتی ہے تاکہ کم سے کم رقبہ میں زیادہ شہد مخفوظ رکھ سکے۔
آج ریاضی دان حیران ہیں کہ شہد کی مکھی نے یہ ہنر وقت کے ساتھ کیسے سیکھا؟
اگر مسدس کے علاوہ کوئی بھی اور شکل بنائی جاتی تو جگہ ضائع ہوتی اور کم شہد محفوظ ہوتا۔
اس لیے، اب ہمیں ٹینالوجی میں جگہ جگہ مسدس ڈیزائین نظر آتے ہیں۔

0 Comments
Thanks for reading my blog.